30 اپریل 2016 - 14:26
سعودی عرب شدید معاشی مشکلات کے گھیرے میں

مالی مشکلات کا شکار سعودی بن لادن گروپ نے سعودی حکومت کی جانب سے تیل کی کم قیمتوں اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کے بعد اپنے 50 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی شاہی خاندان بن لادن گروپ کو کئی دہائیوں سے بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے دیتا رہا ہے جس میں مسجد الحرام کا توسیعی منصوبہ بھی شامل ہے۔ تاہم اب سعودی حکومت کو عالمی منڈی میں عرصے سے تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا ہے اور اس نے متعدد تعمیراتی منصوبوں پر کام روک یا اسے منسوخ کر دیا ہے۔ کمپنی کے بعض منصوبوں میں کام کرنے والے ملازمین نے کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے الوطن اخبار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملازمت سے نکالے گئے ملازمین غیر ملکی ہیں۔ الوطن کے مطابق نکالے گئے ملازمین کو ملک سے نکلنے کا کہا گیا ہے لیکن ملازمین نے تنخواہ کی ادائیگی تک ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے ان میں سے بعض ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی اور یہ کمپنی کے مرکزی دفتر کے سامنے ہر روز احتجاج کرتے ہیں۔ بن لادن گروپ اسامہ بن دلان کے خاندان کی ملکیت ہے۔ سعودی عرب کی کابینہ نے رواں برس ہی ملکی معیشت کی تیل سے ہونے والی آمدن پر بڑی حد تک انحصار کو کم کرنے کی کوشش کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

سعودی عرب میں حکومتی آمدن کا تقریباً 80 فیصد حصہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر مشتمل ہے اور گذشتہ برس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے اس کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ سعودی کابینہ کے منصوبے سے چند دن قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں تھیں کہ سعودی عرب تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی کے باعث بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ دس ارب ڈالر قرضے کا معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔
واضح رہے کہ جہاں بحرین میں عوام کے جمہوریت کے حق میں مظاہروں کے خلاف آل خلیفہ حکومت کو فوجی سپورٹ اور اس کے بعد یمن کے بے گناہ عوام پر سعودی عرب کی جانب سے مسلط کی جانے والی جنگ نے سعودی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے وہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مخاصمانہ رویہ اور خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے بوکھلا کر مغربی طاقتوں کی سازشوں پر آنکھ بند کر کے عمل پیرا ہو کر کی جانے والی سیاست اور فیصلوں نے آل سعود کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس کی واضح مثال تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہے جس کی وجہ سے سعودی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

.......

/169